رسول گلوان : بھارتی سرحد کا پسماندہ محافظ

SHARE:

بھارت اور چین کے سرحدی تنازعہ کے درمیان ایک پسماندہ شخصیت مرکزی کردار کی شکل میں ابھر کر سامنے آتی ہے. جن کے نام پر بحث کا موضوع...




بھارت اور چین کے سرحدی تنازعہ کے درمیان ایک پسماندہ شخصیت مرکزی کردار کی شکل میں ابھر کر سامنے آتی ہے. جن کے نام پر بحث کا موضوع  بنے وادی کا نام گلوان وادی پڑا. واقع یہ ہے کہ ایک بار ایک  کہوجی-مسافر لح کے علاقہ میں پھنس گیا تہا. اور وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا, ایسی صورتحال میں، رسول گلوان نامی ایک چھوٹے لڑکے (جس کی عمر تقریبن 14 سال رہی ہوگی) نے ایک ندی سے گزرتے ہوے راستہ تجویز کیا اور انہیں باہر نکال لے آیا۔ مسافر بچے کی ذہانت سے بہت متاثر ہوا اور اس نے اس ندی کا نام بچے کے نام "رسول گلوان"  کے نام پر، گلوان ندی  رکھا پھر اس کے آس پاس کی وادی گالوان وادی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اپنے بچپن سے ہی رسول گالوان نے انگلینڈ ، اٹلی ، آئرلینڈ  اور امریکہ کے مشہور ایکسپلوررز (کہوجی-مسافر) کے ساتھ تلاشی سفروں کی رہنمائی کی۔ تاریخ کے صفحات میں کھو چکے ، پسماندہ آدیواسی معاشرے سے تعلق رکھنے والے رسول گالوان کا ٹٹوں کے دیکہ ریکہ کرنے والے سے ، برطانوی جوائنٹ کمشنر کے چیف اسسٹنٹ (اکسکال) تک کا سفر  سنسنی خیز اور جرا۶ت سے بھرا ہوا ہے۔

نام
رسول گلوان نام تھا۔ ایک صوفی بزرگ کے کہنے پر ، آپ نے اپنے نام سے پہلے لفظ "غلام" شامل کیا۔ گلوان قبیلے کا نام ہے جس کا مطلب ہے "گہوڑوں کا پالنےوالا"۔ چونکہ آپ کے آباؤ اجداد کا پیشہ گھوڑوں اور ٹٹووں کی دیکھ بھال کرنا تھا ، لہذا اس برادری کا نام گالوان پڑ گیا۔
والٹر لارنس نے اپنی کتاب "دا ویلی آف کشمیر" کے صفحہ نمبر 311-312 پر گلاوان کو ایک قبائلی آدی واسی برادری قرار دیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر وارثاالانور نے کشمیر میں قائم نیوز پورٹل پر لکھا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ایک معروف آدی واسی قبائلی برادری گلوان سے تھا۔

خاندانی پش منظر
آپ کے پر دادا کارا گالوان کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ امیروں کو لوٹتے اور غریبوں میں بانٹ دیا کرتے تہے۔ غریب لوگوں میں آپ کی شبیہہ سرپرست کی تھی ، جبکہ امیر اور مالدار لوگوں میں ، آپکی دہشت تھی۔ ان کے دادا محمود گلوان کشمیر سے بلٹیستان اور پھر لح آکر آباد ہوگئے تہے۔

شخصیت
آپ تقریبن 1878 ء میں لداخ کے صدر مقام لح میں پیدا ہوے تہے۔ آپ کثیر جہتی شخصیت کے مالک تھے۔ بچپن سے ہی، آپ بہت ذہین تھے، دیواروں پر عمدہ پینٹنگز بناتے تھے ، جسے دیکھ کر لوگ آپکی والدہ سے کہتے تھے کہ آپ کا بیٹا ایک دن بہت آگے جائے گا۔ وہ اپنے ہم عمر بچوں کے کھیلوں سے دور رہتے تھے اور بچپن سے ہی تخلیقی جبلت کے حامل تھے.  انہیں لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن لح میں کوئی اسکول نہیں تھا,امیر اپنے بچہوں کے لیے اساتذہ رکھتے تھے۔ آپ ہمیشہ اپنی والدہ سے پڑھنے کے لیے اصرار کیا کرتے تہے۔
 ایک بار آپ کی والدہ نے ان سے کہا ، "ہم غریب لوگ ہیں ، میرے پاس تمہارے استاد کو دینے کے لئے پیسہ نہیں ہے ، پڑھنا لکھنا امیر لوگوں کا کام ہے ، ہمارا نہیں ، دوسرے یہ کہ ہمارے اجداد تعلیم یافتہ نہیں تھے ، انہوں نے سخت محنت کی۔ وہ محنت مشقت کرنے والے لوگ تھے، تمہیں بھی ویسا ہی کرناچاہیے، یہ تمہارے لئے اچھا ہوگا۔ آپ نے اپنی والدہ سے کہا، "ہاں ، ہمارے آباواجداد نے اپنی روزی روٹی کے لئے بہت محنت کی ہے، لیکن میں پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ شاید میری قسمت  اچہی ہو اور میں اچھی چیزیں سیکھوں جو مستقبل کے لئے اچھا ہو ، میں یقینی طور پر ضرور کچھ پڑھنا چاہتا ہوں، اگر آپ مناصب سمچہیں تو مجھے ٹیچر کے پاس جانے دیں۔ میں نے سنا ہے کہ پڑھنا بہترین عمل ہے، یہ تھوڑا مہنگا ہے لیکن آپ بعد میں پیسہ کما سکتے ہیں۔" والدہ نے کہا، "نہیں تم درزی کے پاس جاوں, تمہارے مستقبل کے لئے اچھا ہوگا اور اس میں کوئی خرچ بہی نہیں ہے۔ (صفحہ 11 ، سروینٹ آف صاحب)
آپ کی والدہ نے آپ کو درزی دکاندار کے پاس بھیج دیا، لیکن وہاں آپ کا من بالکل بھی نہیں  لگتا تہا ، غمزدہ رہتے تھے ، ہمیشہ سوچا کرتے تھے کہ اگر میں پیسہ والا ہوتا تو پڑھای کر پاتا، دکاندار آپ کو بہت مارتا پیٹتا تہا, تنگ آکر وہ وہاں سے فرار ہوگے۔


جب پہلی بار ، بہت ہی چھوٹی عمر میں ، وہ ڈاکٹر ٹریل کے ساتھ تلاشی سفر پر جارہے تھے ، تب آپ کی والدہ نے آپکے کرتہ میں 3 روپے رکہ کر سلاءی کر دیے۔  اور کہا کہ جب صاحب (غیر ملکی کہوجی مسافر) کے دیے ہوے پیسے ختم ہو جاۓ اور ضرورت  پڑے تب اسے خرچ کرنا، لیکن پہلے اپنے صاحب کو بتادینا کہ تمہارے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں رکھا ہے۔ ورنہ جب کوئی صاحب کو لوٹے گا, اور وہ تمہارے پاس پیسہ دیکھے گا تو سمجھے گا کہ تم چور ہو۔ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ، آپ  اپنی والدہ سے لپیٹکر خوب روۓ, سلام کیا اور ان کے پاؤں چھوئے، پھر محلے اور گاؤں کے سارے لوگوں کو سلام کیا ، پھر بہن کے گھر جاکر سلام پیش کرکے وداع ہوۓ. (صفحہ- 25 ، سروینٹ آف صاحب)
کچھ عرصے کے بعد ایک مشنری پادری نے لح میں اسکول کھولا ، گالوان کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پھر سے ہچکولے مارنےلگا لیکن وہ اپنی ماں کو جانتا تھا ، لہذا اپنی بہن سے سفارش کروا کر اسکول میں داخلہ لے لیا۔ وہاں آپ بڑی تیزی سے دوسرے لڑکوں کو پیچھے چھوڑ تے ہوۓ آگے بڑھنے لگۓ۔ جس  وجہ سے پادری بہت خوش ہوا, اسنے گلون کی خوب داد و تحسین کیا جس نے گالوان کے اعتماد کو اور مستحکم کردیا.

مطالعہ کا عمل اور صاحب لگوں کے ساتہ کہوجی-سفر کا سلسلہ چلتا رہا. سفر کے دوران ، جو ایک لمبے عرصے تک چلتا رہتا تھا، گالوان اپنے پڑھی ہوئی چیزوں کو بار بار دہراتا رہتا تہا تانکی چیزیں ذہن نشیں رہیں.  آپ لداخی ، ترکی ، اردو ، کشمیری ، تبتی اور انگریزی زبانوں سے واقف تھے۔
اپنی اہلیہ کیتھرین کو لکھے گئے ایک خط میں ، امریکی مسافر رابرٹ بیریٹ نے گالوان صاحب کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں، "رسول عالی اخلاق کا حامل ہے, یہاں تک کہ ایک نہایت محذب و شریف انسان بہی اس کی برابری نہیں کرسکتا۔ وہ بہت ہی اچھے آدمی ہیں، اور اپنے لوگوں کے نگہبان ہیں۔ وہ سانولی رنگت والے, دلکش مسکراہٹ والے ، اپنے کام میں ماہر ایک خوب صورت انسان ہیں۔ انکی آواز سب سے میٹہی انسانی آواز ہے جو میں نے کبھی سنی ہے۔ وہ عورت  ہو ہی نہیں  سکتی جو  پہلی نظر میں انہیں دل نہ دے بیٹہے، لیکن انکی اخلاقیات کی سطح بہت بلند ہے۔ خواتین انکا لحاظ ایسے کرتی ہیں جیسے وہ کوءی ولی ہوں.                    

     

بقول لیفٹیننٹ کرنل سر فرانسس ینگ ہاسبینڈ ، "آپ کو اللہ پر اٹل یقین تھا۔ ان کا ایمان ہر پریشانی ، آزمائش اور مایوسی میں ان کا سہارا تھا۔ بلاشبہ، عقیدت کی اس عادت نے انہیں عمدہ آدمی بنا دیا۔ وہ ایک گاؤں کے بچے کی حیثیت سے اپنی معاش کا آغاز کرتے ہوئے انتہائی غربت کے پش نمظر سے آۓ تہے۔ لیکن ہر حال میں ، وہ محذب آدمی کی طرح پیش آتے تہے۔ وہ پیدائشی طور پر بہترین قسہ گو ، واضح طور پر ایک مشہور گلوکار اور ایک بہترین بینجو پلیئر تھے۔
اپنی سوانح عمری کی اشاعت کے دو سال بعد، 1925 ء میں 47 برس کی عمر میں اس دنیا سے چل بسے۔

چینی فوجیوں سے دو-دو ہاتہ
پسماندہ صدیوں سے اس  سر سر زمین پر آباد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اس خطے سے قدرتی لگاؤ ​​ہے. اور آخر کیوں نہ ہو انسان اپنے وطن سے اپنی ماں کی طرح محبت کرتا ہے. یہ ایک بڑی وجہ رہی ہے کہ بھارت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے میں پسماندہ ہمیشہ سے ہی فرنٹ لائن پر رہا ہے۔ اس نے کبھی نہیں دیکھا کہ ملک کا اقتدار کن کے پاس ہے۔ اس کی ترجیح ہمیشہ اس کا گھر یعنی اس کا ملک رہا ہے. جس کے تحفظ کے لئے ، وہ اپنی تمام تر پریشانیوں اور بے سر و سامانی کے باوجود بھی قربانی دیتا رہا ہے۔ اور کیوں نہ ہو وہ ہندوستان کو فتح شدہ ریاست سمجھنے والے اشراف مسلمانوں کی طرح باہر سے آیا حملہ ور تو ہے نہیں.
ایک بار جب وہ شام کے وقت کیمپ میں واپس آۓ تو پتا چلا کہ کچھ چینی فوجیوں نے میجر صاحب اور ہیڈ مین پر حملہ کیا ہے۔  گلوان صاحب کو بہت غصہ آیا، آپ نے اپنے  ساتہی کلام اور رمضان کے ساتہ چینی فوجیوں کی جم کر دھولاءی کر دیا ، یہاں تک کہ وہ آکر میجر صاحب سے معافی مانگنے لگیں۔ دوسرے دن اچانک کلام آئے اور بتایا کہ بازار میں چینی ہم لوگوں کو مار رہے ہیں۔ رسول گلوان فورا وہاں پہنچے ، دیکھا کہ پوری مارکیٹ چینی فوجیوں سے بھری ہوئی ہے اور وہ لوگوں کو مار رہے ہیں ، فورا ہی جنگ میں کود پڑے، چینی فوجیوں نے انکا ڈنڈا توڑ دیا اور انہیں بری طرح سے زخمی کردیا ، وہ زمین پر گر گۓ، پہر بھی ، وہ انھیں مارتے رہے اور مرا سمچہ کر بھاگ گئے، کچھ دیر بعد، میجرصاحب ہیڈ مین کے ساتھ آئے، انہوں نے ادھ مرے حالت میں پڑے گلوان سے کہا، "رسول آپ کو دکہی ہونے کی ضرورت نہیں، یہاں آپ تنہا گرے ہیں اور وہاں سات چینی فوجی اور ان کا ایک افسر گرا پڑا ہیں."
اس بات نے انکے  چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ بیکہیر دی۔ انکا ساتھی رمضان بھی زخمی تہا۔ (صفحات،76،77،78،سروینٹ آف صاحب)
غلام رسول اس بات سے قطع نظر کہ انگریز خود غیر ملکی ہیں اور ہندوستان پر قابض ہیں,انہوں نے یہ زیادہ اہم سمجھا کہ چینی فوجیوں کا حوصلہ توڑا جائے تاکہ وہ کبھی ہماری  سرحدوں کی طرف  آنکہ اٹہاکر نہ دیکھ سکے۔ اور اس کے لیۓ انہونے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان تک کو خطرہ میں ڈال دیا۔
آج ایک بار پھر ، رسول گلوان بہارت کی سرحد کے دفاع کے لئے بعد از مرگ اہم کردار میں ہیں۔ ایک بہارتی کے ذریعہ وادی کی دریافت اورانکے نام  پر اسکی نامزدگی نے بہارت کے دعوے کو مزید تقویت بکشا ہے۔

انتساب:
میں اس مضمون کو اپنے دوست گنپت راۓ کی نظر کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں جنکی ملاقات سے اب تک محروم ہوں.

اظہار تشکر:
میں گلوان صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی زندگی کی کہانی کو ایک کتابی صورت میں ہمارے سامنے پیش کر ایک پسماندہ لیجینڈ کو تاریخ میں زنداۓ جاوید رکہنے میں اہم کردار ادا کیا.                                   

                      
کتاب کا عنوان "صاحبوں کا نوکر" خود پساندہ نقطہ نظر کی وضاحت کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی پسماندگی (پسماندہ قبائلی معاشرے سے تعلق رکھنا، آباؤ اجداد کا پیشہ جو اس وقت بھی اور آج بہی  برا سمجھا جاتا ہے) کو چھپایا نہیں بلکہ بابا کبیر کی طرح جگ ظاہر کیا.
ساتہ ہی میں انجینئر شمشاد احمد صاحب کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے گالوان صاحب کی تصویر واٹس ایپ پر بھیج کر متعارف کرایا, جس نے مجھے لکھنے کے لیۓ متحرک کیا۔


حوالہ جات:

Servant of Sahibs:A Book To Be Read Aloud, Ghulam Rassul Galwan, W Heffer & Sons Ltd, Cambridge,1924


The Valley of Kashmir, Walter R. Lawrence, I.C.S., CLE.,Oxford University Press,1895





شکرگزاری:


میں غلام رسول گیلوان صہب کا اپنی زندگی کی کہانی ایک کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس نے تاریخ میں پسماندہ وبھوٹی کو ہمیشہ کے لئے ہمیشہ کے لئے پیش کیا۔ کتاب کا عنوان خود پسندا اینگل کو واضح کررہا ہے۔ 'صحبو کے خادم' انہوں نے اپنی پسامنڈی (پسنداڈا قبائلی معاشرے سے تعلق رکھنے والے ، باپ دادا کا پیشہ جسے آج کل بھی برا سمجھا جاتا ہے) کو چھپایا نہیں بلکہ بابا کبیر کی طرح۔

-فیاض احمد فیضی



COMMENTS

Name

Andhra Pradesh,7,Ansari,3,Arunachal Pradesh,1,Bengaluru,1,Bihar,4,BJP,17,Breaking News,2,Bunkar,1,Business,1,CBSE,4,Chennai,3,Chhattisgarh,2,Congress,5,Corruption,1,Covid19,3,Crime,3,Dalit,1,Defence,1,Delhi,2,DIKSHA,1,Education,16,Employment News,1,Featured,3,Gorakhpur,1,Great Leaders,5,Gujarat,1,Handicraft,1,Handloom,3,Haryana,1,HBSE,1,I Love My India,1,India,5,Initiatives,1,Inspiration,6,Israel,3,Issues,20,Jammu,1,Jharkhand,1,Julaha,1,Kanpur,1,Karnataka,6,Kerala,2,Kolkata,1,Ladakh,1,Literature,8,Madhya Pradesh,2,Maharashtra,5,Manipur,1,Narendra Modi,6,National,33,National Handloom Day,3,Nepal,1,News,91,Odisha,1,Orissa,2,Palestine,3,Pasmanda,6,Politics,30,Priyanka Gandhi Vadra,2,Punjab,1,Rahul Gandhi,1,Rajasthan,2,Results,5,Schemes,5,Social Media,1,Tamilnadu,4,Tripura,1,Unheard Voices,1,UP Vidhan Sabha Elections 2022,2,Urdu,3,Uttar Pradesh,35,Uttarakhand,2,Varanasi,5,WBBSE,1,Weaver,7,Weaver community,39,Weavers,75,West Bengal,3,World News,11,Yogi Adityanath,1,
ltr
item
Indian Weaver Community : رسول گلوان : بھارتی سرحد کا پسماندہ محافظ
رسول گلوان : بھارتی سرحد کا پسماندہ محافظ
https://1.bp.blogspot.com/-b7mvnkVXZd4/XwFxxHuWowI/AAAAAAAAAKg/hcOP9YGxz00MPmWFlmBowgR3WxCW1DTowCNcBGAsYHQ/s1600/1.png
https://1.bp.blogspot.com/-b7mvnkVXZd4/XwFxxHuWowI/AAAAAAAAAKg/hcOP9YGxz00MPmWFlmBowgR3WxCW1DTowCNcBGAsYHQ/s72-c/1.png
Indian Weaver Community
https://www.weaver.co.in/2020/07/Rasool-Galwan-urdu.html
https://www.weaver.co.in/
https://www.weaver.co.in/
https://www.weaver.co.in/2020/07/Rasool-Galwan-urdu.html
true
230750452047820164
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy